بھٹکل 6/ مئی (ایس او نیوز) یہاں بندرروڈ سکینڈ کراس پر ایک آٹورکشہ ڈرائیور کو رکشہ سے باہر کھینچ کر اُس کی بری طرح پیٹائی کرنے ، پھر رکشہ کو لے کر فرار ہونے کی واردات پیش آئی ہے، جس کے بعد رکشہ موسیٰ نگر سے برآمد کرلیا گیا ہے، جبکہ حملہ آوروں کی کار کو پولس پکڑنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
بھٹکل مخدوم کالونی کے رہائشی اشرف ابراہیم (35) نامی رکشہ ڈرائیور حملے میں بہت بری طرح زخمی ہوا ہے، جسے بھٹکل سرکاری اسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد اُڈپی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اشرف ابراہیم اپنی اہلیہ اور اپنی بہن کو بٹھاکر آزاد نگر سے مخدوم کالونی جارہا تھاکہ اچانک بندرروڈ سکینڈ کراس پر ایک کار نے رکشہ کے آگے آکر رکشہ کو روکا، پھر اُس میں سے چار لوگوں نے رکشہ ڈرائیور اشرف کاکالر پکڑکر باہر کھینچتے ہوئے اُس کی بری طرح پیٹائی شروع کردی۔اشرف کی بہن کا کہنا ہے کہ جب ہم نے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہمیں بھی دھکیل دیا بعد میں ایک حملہ آور رکشہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے رکشہ لے گیا، جبکہ باقی تین لوگ کار پر ہی سوار ہوکر فرار ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مخدوم کالونی کے نوجوان جائے واردات پر جمع ہوگئے اور کار کا نمبر حاصل کرتے ہوئے پولس کو واقعے کی جانکاری دی۔ اس دوران خبر ملی کہ متعلقہ رکشہ موسیٰ نگر میں دیکھا گیا ہے۔جب نوجوان موقع پر پہنچے تو رکشہ کا گلاس ٹوٹا ہوا پایا گیا، خبر ملتے ہی پولس موقع پر پہنچ کر رکشہ کو اپنی تحویل میں لے لیا۔
اُدھر دوسری طرف بتایا گیا ہے کہ متعلقہ کار جب پولس اسٹیشن کے سامنے سے گذررہی تھی، تو اُسی وقت پولس نے متعلقہ کار کو روک کر کار کوبھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ البتہ اُس وقت کار پر صرف ایک ہی نوجوان موجود تھا، جس سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔
واقعے کے تعلق سےنوجوان کا کہنا ہے کہ متعلقہ رکشہ ڈرائیور گذشتہ دو ماہ سے اُس کی بہن کو دکان میں آتے جاتے وقت اکثر چھیڑا کرتا تھا، جس کی وجہ سے اُس کی پیٹائی کی گئی ہے۔
مقامی لوگوں کا بیان: اشرف ابراہیم پر حملہ ہونے کی اطلاع موصول ہوتے ہی مخدوم کالونی کے کافی لوگ بھٹکل پولس تھانہ کے باہر جمع ہوگئے، آٹو رکشہ یونین کے ذمہ داران بھی واقعے کی جانکاری ملتے ہی تھانہ کے باہر جمع ہوگئے، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اشرف ابراہیم با اخلاق نوجوان ہے، اور جس طرح کے الزامات اُس پر عائد کئے جارہے ہیں وہ ممکن ہی نہیں ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یا تو لڑکی کو چھیرنے والا رکشہ ڈرائیور کوئی دوسرا ہوگا، یا پھر یہ لوگ اپنی صفائی میں جھوٹ بات کررہے ہیں۔ اس تعلق سے جب متعلقہ کار والوں سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بعد میں بات کرنے کی بات کہی ، مگر پھر اُن سے ملاقات نہ ہوسکی۔
رکشہ یونین کا بیان: واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے آٹو رکشہ یونین کے نائب صدر نعیم نے بتایا کہ رکشہ ڈرائیور پر اس طرح دن دھاڑے حملہ کرنا اور پھر رکشہ میں توڑپھوڑ کرتے ہوئے رکشہ کو اپنے ساتھ لے کر بھاگ جانا بالکل غلط ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ رکشہ ڈرائیور پر حملہ کرنے کے جر م میں حملہ آوروں کو گرفتار کیاجائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر رکشہ ڈرائیور دو ماہ سے کسی لڑکی کو چھیڑ رہا تھا تو اُس کے تعلق سے پولس کو خبر کرنی چاہئے تھی، اپنے محلہ کے ذمہ داران یا جماعت کو بھی خبر دی جاسکتی تھی، مگر اس طرح کھلے عام غنڈہ گردی کرتےہوئے حملہ کرنا پھر رکشہ لے کر ہی فرار ہونا بالکل مناسب نہیں ہے اور یونین اس طرح کی غنڈہ گردی کی مذمت کرتا ہے۔
پولس تھانہ میں معاملہ درج: رکشہ ڈرائیور پر حملہ کرنے اور رکشہ پر توڑ پھوڑ کرنے کے تعلق سے ایک طرف اشرف کے رشتہ داروں نے ٹائون پولس تھانہ میں کیس درج کیا ہے تو وہیں بدریہ کالونی کی لڑکی کے گھروالوں کی طرف سے بھی رکشہ ڈرائیور پر جوابی شکایت درج کی گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ رکشہ ڈرائیور اُن کے ایک لڑکی کو بار بار چھیڑ کر پریشان کررہا تھا۔
ٹائون پولس نے دونوں طرف سے معاملہ درج کرتے ہوئے کیس کی چھان بین شروع کردی ہے۔